نئی دہلی،14؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) مرکزی ریسرچ بیورو (سی بی آئی)نے ارب پتی زیورات تاجر نیرومودی کی طرف سے پنجاب نیشنل بینک میں دو ارب ڈالر سے زیادہ کا ملک کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل کئے جانے کے معاملے میں آج اپنی پہلی چارج شیٹ دائر کی۔یہ معلومات حکام نے دی۔چارج شیٹ میں پنجاب نیشنل بینک کی سابق سربراہ اوشا اننت سبرہمین کے مبینہ کردار کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔فی الحال اوشا الہ آباد بینک کے منیجرو ڈائریکٹر ہیں۔ممبئی میں واقع خصوصی عدالت میں دائر چارج شیٹ میں پنجاب نیشنل بینک (پی این بی )کے بہت سے دوسرے اعلی افسران کا بھی نام ہے۔اوشا 2015 سے 2017 تک پی این بی کی منیجنگ ڈائریکٹر تھیں۔حال میں کیس کے سلسلے میں سی بی آئی نے ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔سی بی آئی نے اپنے چارج شیٹ میں ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ۔کیوی برہم جی راؤ اور سنجیو شرن اور جنرل منیجر (بین الاقوامی آپریٹنگ)نہال احد کا بھی نام لیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ایجنسی نے نیرومودی،اس کے بھائی نشال مودی اور اس کی کمپنی میں ایگزیکٹو کے طور پر کام کرنے والے سبھاش پرب کے کردار کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔چارج شیٹ بنیادی طور پر پہلی ایف آئی آر سے متعلق ہے جس ڈائمنڈ آر یو ایس، سولر ایکسپورٹس اور اسٹیلر ڈائمنڈس کو 6,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی ضمانتی خط جاری کرنے سے متعلق جعلسازی کے سلسلے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ایجنسی نے اس چارج شیٹ میں میہل چوکسی کے کردار کا تفصیل سے ذکر نہیں کیا ہے۔اس بارے میں ایجنسی تب تفصیل ذکر کر سکتی ہے جب وہ گیتانجلی گروپ سے جڑے معاملے میں اضافی چارج شیٹ دائر کرے گی۔سی بی آئی نے نیرومودی اور چوکسی طرف سے عوامی علاقے کے بینک میں کئے گئے مبینہ جعلسازی کے سلسلے میں تین مختلف مختلف ایف آئی آر درج کی ہیں۔پی این بی کے ذریعہ سی بی آئی سے شکایت کئے جانے سے پہلے ہی نیرو مودی اور چوکسی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔